پیر، 27 جولائی، 2015

مرکزی نکتہ

سمیرخان
مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں مسلم علما،مفکرین اور دیگر لوگوں کے علمی مباحث کو پڑھتا تھا،جس میں وہ دہشت گردی یعنی جہاد کے غلط ہونے کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے تھے۔وہ امریکہ کے خلاف القإٕعدہ کے نظریۂٔجہادکو ناقص ثابت کرنے کے لیے، طیاروں کواغوا کرنے،فدائی حملوں،غیرمتحاربین کی ہلاکتوں اور اس جیسےدوسرےمعاملات پرراےٴزنی کرتے۔ان میں سےکچھ لوگ تو انہیں دائرۂ اسلام سے ہی خارج قراردیتےاور انہیں تکفیری تک کہتے۔یہ سب میرےلیےامریکہ میں رہنےوالےایک مسلمان کےطور پر خاصا بیزارکن تھا۔مسلمانوں کومذکورہ بالامعاملات پر غیر مسلموں کے سامنےاپنےموقف کا دفاع کرنےپرگرفتارکر لیا جاتا۔مزیدبراں کیلیفورنیا کےمنبروں سےگراوٴنڈزیروکے سامعین کے سامنےایسےموضوعات کی مذمت یا دفإع میں بولناایک معمول بن گیا۔میں نے  محسوس  کیاکہمرکزی نکتہ پرنہ تو کبھی مساجد کے مطالعاتی دوروں میں روشنی ڈالی گئی نہ کبھی ٹی وی پر ہونے والے سیاسی مناظروں میں اس بارے میں کچھ کہا گیا ۔یہی معاملہ ،جسے میں "مرکزی نکتے"کانام دینا پسند کروں گا،ایک عام مسلمان کو جہادی بننےکامرحلہ طےکروانےکا محور ہے۔ اور یہ محور اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کاقتل عام نہیں ہے نہ ہی یہ امریکہ کا مسلم دنیا کے ساتھ سفّاکانہ رویہ ہے۔یہ نہ تو جہادی نغموں کا کمال ہے اور نہ ہی اس موضوٕع پر بننے والی فلموں کا۔مرکزی نکتہکی ساخت مکمل طور پر نظریاتی اور فقہی ہے۔مرکزی نکتہ یہ ہے کہ جہادمشرق سے مغرب تک پاےٴجانے والےتمام مسلمانوں پر تب تک انفرادی طور پر فرض)فرض عین(ہےجب تک کہ ہمارے تمام تر مقبوضات کو آزاد نہیں کروا لیا جاتا۔جدید جہاد میں جہاد کے فرض عین ہونے کا نکتہ مرکزِثقل کی حیثیت رکھتا ہے۔اسی لیے آج دنیا مجاہدین کی  بیداری کی شاہد ہے۔کیو نکہ مسلمان اس مرکزی نکتے کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی حاصل کر رہے ہیں۔ جو کہ درحقیقت اللہ کی طرف سے اُن پر عائدکردہ حکم ہے۔

اس مرکزی نکتہ کو مسلمان عالم دین الشیخ عبداللہ یوسف عزام شہیدنے جلاّبخشی، جنہیں بجا طور پرجدیدجہاد کا جَدّامجد کہا جا سکتا ہے۔یہ اُنہی کی اس اہم حکم کو دی گئی تازگی تھی کہ دنیا بھر سےہزاروں کی تعداد میں مجاہدین سو و یت یونین کےخلاف اپنے مسلمان بھائیو ں کی مدد کو افغانستان پہنچے۔ در حقیقت وہی اس فکر کے بانی ہیں جسے آج ہم 'عالمی جہاد'کے نام سے جانتے ہیں۔باقی لوگ جیسا کہ ڈاکٹر ایمن الظواہری اسی حکم کی جزئیات کی وضاحت کے لیے آگے بڑھے۔ڈاکٹر عبداللہ عزام شہید کے علمی کارنامے اسی حکم کے بارے میں فقہی مباحث سے پُر ہیں۔جن میں سے ایک مشہور زمانہ کتاباسلامی سر زمینوں کا دفاع ایمان کے بعد اہم ترین فرض عینہے۔یہ ایک فتویٰ ہےجو آپ نے سعودی عرب میں ہو نے والے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں علماکرام کے سامنے پیش کیا، جن میں ابنِٕ عثیمین اور بن بازبھی شامل ہیں اور اس فتویٰ کی سند کو بالاتفاق قوی مانا گیا۔ ڈاکٹر عزام شہید نے اس فتویٰ میں دفاعی جہاد کے بارے میں  کئی اہم اور مسلمّ علماو فقہاکی راےٴ کو پیش کیا۔آپ نے ان جیّد فقہاکے حوالے سے لکھا کہ حملہ ہونے کی صورت میں جہاد پہلے اُس  خاص  حملہ زدہ علاقے کے مسلمانوں پرانفرادی طور پر فرض عین ہوتا ہے،اگر وہ دشمن سے نمٹنے میں نا کافی ہوں تو یہ فرض اُن کے قریبی مسلمانوں پر بدرجہٴ اولیٰ فرض ہو جاتا ہے۔اگر وہ بھی اس کے لیے ناکافی ہوں تو یہ فرض عین  پھیلتا ہوامشرق و مغرب کے مسلمانوں پر انفرادی طور پر عائد ہو جاتا ہے۔جو مسلمان اس فرض کو ادا کرنے کی سکتّ رکھنے کے باوجودادا نہ کرےگنہگار ٹھہرتا ہے۔آپ صلی اﷲعلیہ واٰلہ وسلّم کے با برکت زمانے میں تبوک کا معرکہ پیش آیا۔وہ جہاد دفاعی اور مدینہ کے مکینوں پر انفرادی طور پر فرض ٹھہرا۔جنہوں نے پیچھے رہنے کے لیے احمقانہ ٕعذر تراشے، مسلمانوں میں منافقین کے طور پر جانے گئے۔اُن کی دین سے وفاداری پر سوال اُٹھایا گیا۔ ڈاکٹر عزام شہید نے جو دلیل پیش کی وہ یہ تھی کہ جہاد، اُندلس )ہسپانیہ(کے سقوط کے ساتھ ہی فرض ہو چکا ہے  اور آج جبکہ ہماری بیش  ترزمینوں پر بیرونی طاقتوں کا قبضہ ہے تو ایسی صورتحال میں تواس کے اہمیت اور بھی دو چند ہو گئی ہے۔
پوری کتاب میں ڈاکٹر عزام شہیدنے موجودہ زمانے کے مسلمان کے جدیدعذرات جیسے کہ گناہ گاروں کے درمیان لڑنا،فرض کفایہ اور حاکم کے اذن کے بغیر لڑنا وغیرہ کی بھرپور تردید کی ہے۔بعد میں دوسرے علما نے اس فتویٰ کی تائید کی ،جن میں ناصر بن حماد الفہد، یوسف العییری،انور شعبان، ابو قتادہ الفلسطینی، ابو یحییٰ اللیبی اورحمور بن عقلاء الشعیبی کے نام شامل ہیں۔انھوں نےدوسرے مختلف شبہات کی بھی تردید کی ہے ۔ جن میں طاقتوردشمن سے لڑنااور غیر مسلم حکومتوں سے معاہدہ کرنے والی مسلم سر زمینوں پرقائم حکومتو ں کا معاملہ،شامل ہیں۔اسی طرح  مدارس کے اُن طلبا کا بھی ذکر ہے ،جن کا کہنا ہے کہ ہمیں مزید تزکیہ کی ضرورت نہیں وغیرہ وغیرہ۔
پھر ایک اہم واقع رونما ہوا………قابض کفار کے مقابلے میں مسلم زمینوں کے دفاع کی ایک جدید وضاحت سامنے آئی۔ یہی وضاحت آگے چل کر القاعدہ کے منظم ہونے کا راستہ بنی۔
مصر میں اسلامی حکومت کے قیام کی جدوجہد کا ایک طویل  اور کٹھن تجربہ رکھنے والے مصری مجاہدین اور علما و مفکرین نے یہ دعوت آگے بڑھائی کہ یہ نام نہاد اسلامی حکومتیں ہی  در حقیقت قابض قوتیں ہیں۔جب تک ان کو عملی طور پر غیر فعال کر کے جڑسے نہیں اُکھاڑا جاتا مسلمان اسی طرح جہالت  میں جکڑے رہیں گے کہ جس طرح وہ ایک غیر مسلم قابض فوج کے زیر تسلط رہتے ہیں۔
یہ وضاحت اس فقہی قانون سے اخذ کی گئی ہےجو ایک مرتدکے بارے میں احکام سے بحث کرتا ہے۔اسلامی قانون اسلام چھوڑنے والے شخص کے لیے موت کی سزا سناتا ہے(۱)۔مرتد کے ارتداد کی جانچ پرکھ اُ س کے عوام کے سامنے کیے گئےعمل سے کی جاتی ہے۔ اس صورت میں کہ اگر مجوزہ شخص عیسائی ہو نا چاہتا ہویا کفار کے لیے مسلمانوں کی جاسوسی کرنا چاہتا ہویا اگر وہ مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لیے دشمن سے جا ملے،تو اُس نے بہت بڑا گناہ کیاجسے کفراکبر کہا جاتا ہےاور اس پر فقہا کا اتفاق ہے۔فقہا نے ایسےدس سے کچھ زائد اعمال (۲)کی نشاندہی کی ہےجو ارتداد میں داخل ہوتے ہیں۔حتّیٰ کہ شراب نوشی،بدکاری،چوری یا اسی طرح کے دیگر گناہ کبیرہ کے سر زد ہونا  بھی ارتداد کے  حکم میں نہیں آتااِلّا یہ کہ حاکم خود اپنی حکومت میں ان گناہوں کے کرنے کی کھلم کھلا اجازت دے۔ خوارج اس بارے میں انتہائی متشدد  عقیدہ رکھتے تھے اور ایسے تمام گناہ کبیرہ کے مرتکبین کو مرتد کہتےتھے۔ الحمدﷲمجاہدین کے متعلق اس بات(تکفیری ہونے) کا گمان تک نہیں کیا جا سکتا ۔
مصری  مجاہدین نے دعویٰ کیا اسلامی سر زمینوں پر موجود حاکم دو بنیادی وجوہات کی بُنیاد پر مرتد ہو چکے ہیں۔جن میں پہلی وجہغیر شرعی ذرائع اختیار کرتے ہوئے حکومت کرنا اور دوسریمسلمانوں کے دشمنوں کو دوست بناناہے۔پہلی وجہ پراستحلال)“اﷲکی حرام کردہ چیزوں کو حلال اور حلال چیزوں کو حرام قرار دینا( کا اطلاق ہوتا ہے۔اسی طرح اس حکم کا اشارہ اِنسان کے بنائے ہو ئے قوانین جمہوریت)۳( ،جاھلیہ (قبلِ از اسلام کا زمانہ) اور اسی طرح کے دوسرے مُستعار لیے گئے قوانین کے ذریعے حکومت کرنے کی طرف بھی پایا جاتا ہے۔
ٍ            دوسری وجہ  کا اطلاق ایسے جاسوسوں پر ہوتا ہے جو کفار کے لیے مسلمانوں کی جاسوسی کریں، مسلمانوں پر چڑھائی کے لیے اُنھیں فوجی اور جاسوسی اڈے فراہم کریں تا کہ کفار کے لیے مسلمانوں کوقتل کرنے،ان کو اذیّت دینے اُن سے گھٹیا اورغیر اخلاقی سلوک کرنے میں ملوّث ہوں،کفار کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے مسلمان عورتوں کو تعذیب کا نشانہ بنائیں ،شریعت ،جہاد، عقیدہ اور اس جیسے دوسرے موضوعات پر اسلامی تعلیمات کو بگاڑ کر پیش کرنے اور اپنے تخلیق کردہ طریقوں کو درست ثابت کرنے کے لیے پراپیگنڈہ مہمات چلاتے ہوں۔مذکورہ بالاامور ارتداد کے انتہائی درجات میں داخل ہیں۔پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جدید حکومتی سانچے میں بالخصوص کون لوگ مرتد ہیں۔تو اس حکم کا اطلاق اُن تمام لوگوں پر ہوتا ہےجو اس طرح کے کفریہ افعال میں شریک ہیں۔ اُنھوں نے اﷲکو چھوڑ کر اپنے پیشواوٴں کو اپنا رب مان لیا ہے۔" (۳۱:۹) شیخ ابو محمد المقدیسی فرماتے  ہیں :''اگرچہ  وہ  اپنے پیشواوٴں (پادریوں)کے سامنے جھکتے یا سجدہ ریز نہیں ہوتے ،لیکن وہ حرام کو حلال اور حلال کو حرام بنانے میں اُن کے مدد گار ہیں اور اُن سے اتفاق کرتے ہیں، اس لیےاﷲنے ان (پادریوں) کو ان جاسوسوں اور حکمرانوں کا رب کہا ہے۔ کیونکہ قانون سازی میں اطاعت، عبادت ہے اور یہ عبادت ہرگز ہرگز غیر اﷲ کے لیے نہیں ہو سکتی کیونکہ صرف اﷲکی ذات ہے جو قانون سازی کا اختیار رکھتی ہے۔")۳(
آج سعودی بادشاہت اس غلیظ ارتداد کی بدترین مثال ہے ۔ ان کی بادشاہت کو سونے کے ورق میں لپٹی غلاظت سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔  یہ شریعت کو اپنا ذاتی قا نون گردانتے ہیں اور حر مین شریفین کو اپنی طاقت میں اضافہ اور امت میں اپنی عزت و مرتبہ بڑھانے کے لیے استعمال کر تے ہیں۔ امت کا کھربوں ڈالر کا سرمایہ یہ اپنے پیٹ اور جیبوں کو  بھرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اُس میں سے کچھ حرمین شریفین پر خرچ کردیتے ہیں تا کہ آنے والے مسلمان انہیں دیکھ کر ان سے خوش ہوں۔یہ  اُُمت کی حمایت حاصل کرنے کے کی ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی ہے ۔ پھر بعض دفعہ وہ ایسے شرمناک قسم کے جھوٹ بو لتے ہیں جیسے"اس دفعہ حج کے موقع پر القاعدہ حاجیوں پر حملے کا منصوبہ بنا رہی ہے ۔لہٰذا سعودی فوج اُمت کی حفاظت کے لیے تیار رہےگی۔)“۴(
یہ تو صرف ابتداہے۔پھر سعودی عرب کا امریکہ کے ساتھ وہ روحانی تعلق ہے جس میں جزیرہ نماےٴ عرب کے خلاف مسّلح جارحیت بھی شامل ہے ۔اور اسی سلسلے میں صلیبیوں کو فو جی اڈے فراہم کیے جاتے ہیں تا کہ مسلمانوں کے خلاف جنگ کو پو ری دنیا تک پھیلایا جا سکےجو کہ خود اُن کےاپنے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اسی طرح اسرائیل کی حفاظت کے لیے   سر گرم ہونااور ایک نئے دین کی ایجاد کے لیے بین المذاہب مکالمے منعقد کروانا ۔ایسے علماکو آگے لانا جوحکومت کے کیےگئے ہر کا م کے ليے جواز فراہم کر سکیں﴿۵،جادو اور جنّوں کے ذریعے مجاہدین کی قیام گاہوں کا پتہ چلانا(۶)اوراُنہیں خفیہ جیلوں میں قید کرکے اذیّتیں دینا جس سے بزرگ علماءتک کو خلاصی نہیں۔
ان سب باتوں کے بعد بد قسمتی یہ ہے کہ اُن کے سیاسی مفادات ہر موقع پر مذہب سے بالاتر رہتے ہیں اور اُن کےعلما ہر ایسے معاملے کو تحفط فراہم کرنے کےلیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ یہاں یہ بات آپ کی دلچسپی سے خالی نہ ہو گی کہ سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد میں سعوددی عرب  نےسوویت یونین کو دشمن قرار دیا تھا۔یہاں تک کہ آل سعود نے اپنے شہریوں کو افغانستان میں سوویت فوجوں کے خلاف لڑنے کے لیےپاکستان سے محفوظ راستہ فراہم کیے رکھا۔ کیونکہ اُس وقت دونوں ممالک کے مابین کوئی معاہدہ نہ تھااور وہ جہاد ایک ایسے دشمن کے خلاف تھا جسے ساری دنیا نفرت کی نگاہ سے دیکھ رہی تھی۔
لیکن جب جہاد کا رُخ مسلمانوں کے خلاف بہیمانہ جرائم کے مرتکب امریکہ کی طرف ہوا توسعودی عرب نے صلیبیوں کے ساتھ اتحاد کا راستہ اختیار کیااور انتہائی بودی دلیلیں پیش کیں کہ ہمارے اُن سے معاہدے ہیں،وہ ہمارے اتحادی ہیں اور   اسلام ہمیں  معاہدے کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دیتا ؟
سعودی عرب کی نظر میں سوویت یونین کے خلاف جہاد اﷲکے لیے تھا۔ جبکہ وہی جہاد اگر امریکہ کے خلاف ہو تو ان کی نظر میں غلط ہے۔ ہم اُن لوگو ں سے براٴت کا اعلان کرتے ہیں جو جہاد کو امریکہ کی رضا جوئی کا ذریٕعہ سمجھتے ہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ جہاد اُس وقت تک فرض عین رہے گا جب تک کہ امریکہ اور اُس کے مرتد اتحادی اسلامی سر زمینوں سے دفع نہیں ہو جاتے۔اور اُس کے اتحادیوں میں صرف خطے کے مرتد ہی شامل نہیں، بلکہ وہ طواغیت بھی شامل ہیں جو امیر کو امیر تر اور غریب کو غریب تر بنانے میں کوشاں ہیں، جو توحیدی نظام کی خواہش رکھنے والے مسلمانوں کے خلاف جارحیت کرتے ہیں اور اﷲکے بنائے گئے قوانین کو اپنی خواہشات کے مطابق بدلتے ہیں۔اگر مجاہدین سرے سے جہاد چھوڑ دیں تو آپ خود اندازہ لگا لیں کہ ایسی صورت میں  امریکہ کن ٕعزائم کی تکمیل میں کامیاب ہو گا ۔ ہر طرح کا فتنہ مسلم معاشروں میں پھیل جائے گا۔ کفر ،شرک اور فساد جیسے قبیح گناہوں کی کھلے عام چھٹی دی جائے گی۔یہ یقیناً اُنہیں مسلمانوں کی سیاسی ، مذہبی اور معاشرتی زندگی پر اثر انداز ہو نے کے لیے اسلامی سر زمینوں پر مزید استحکام بخشے گا۔ اس سب کی ایک جھلک اُن علاقوں میں دیکھی جا سکتی ہے جہاں مجاہدین کا اثر نہ ہونے کے برابر ہے۔ تو کیوں ایک مسلمان تو حید کےپرچم کے آگے   رُکاوٹ بنے گا۔ ایک ایسے پرچم کے آگے جوشریعت کی سالمیت کا محافظ ہے۔ اور یہی وہ حقیقت ہے جو مرکزی نکتے کو سامنے لاتی ہے۔


١۔ یہ حکم حیرت انگیز طور پرپچھلے کچھ عرصہ سے مختلف فیہ بنا ہوا ہے۔ اس حکم کے مخالفین جو آیت دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں وہ بالکل سیاق و سباق سے الگ ہےاور وہ اس موضوع کہجو بھی دین سے پھر جائے، قتل کر دیا جائے ]“بخاری شریف جلد۹؛کتاب۸۴؛حدیث نمبر۵۷[پرایک بھی مستند حدیث پیش کرنے سے معذور ہیں۔یہ لوگ حضرت صدیق اکبر اور آپ رضی اﷲعنہ کےساتھیوں کے  ارتداد کے خلاف جہاد کا جواب دینے سے بھی قاصرہیں۔
۲۔  شیخ ابو بصیر الترطوسی
۳۔ شیخ ابو محمد المقیدیسیDemocracy: A Religion
۴۔  میری القاعدہ کے مختلف سرکردہ لوگوں اور کارکنان سے بات ہوئی ۔ وہ سب دلی طور پر بقیہ اُمت کے شانہ بشانہ حج بیت اﷲکی سعادت حاصل کر نے کی خواہش رکھتے ہیں اور ان کے ایسے مضحکہ خیز جھوٹو ں سے اﷲکی پناہ مانگتے ہیں۔
۵۔ ہم بحیثیت القاعدہ ارکان اپنے خلاف لگنے والے تکفیری،خوارج،عامةالمسلمین کو قتل کرنے والے اور اس طرح کے دوسرے الزامات کی چاہے جتنی بھی تردید کر لیں یہ سکالر برائے ڈالرہماری کسی بات کا مُدلل جواب دینے کی بجائے  اُسی طرح باآوازبُلندوہی فضولیات دُہراتے رہتے ہیں۔
۶۔   کچھ احباب کو شاید یہ بات عجیب معلوم ہولیکن جن مجاہدین نے ہجرت کی ہے وہ اس کا بخوبی مُشاہدہ کر چُکے ہیں۔ مہاجر مجاہدین بھائیوں نے اپنے روزمرّہ کے اذکار خصوصاً صبح شام کے اذکار پر خصوصی توجہ دی تا کہ اﷲان غلیظ جنّوں سےاُنکی حفاظت فرمائے۔

0 Responses to “مرکزی نکتہ”

ایک تبصرہ شائع کریں

Urdu Tranlsation by ملحمہ بلاگ